Saturday, July 20, 2019

Village Nara beautiful Place....In Jand Attock

Yahan ujlay ujlay roop Boht

Per asli kam Behroop Boht



Us pair ky nechy kya rukna

Jahaan saya kam ho dhoop Boht


Chall Insha aapny gaoon mein…


Bethein gay sukh ki chhaon mein


keyon teri aankh sawalii hai?



Yahan her ek Bat niralii hai


Es dais Baseraa mat krna….


Yahaan muflis hona gali hai


Chall Insha aapny gaoon mein



Bethein gay sukh ki chaon mein


Jahan sachy rishtaay yaroon ky


Jahan wadey pkay piyaroon ky


jahan ghongat zewar naroon ky



jahan jharne komal sur wale


jahan saz bajen bin taron k


Chall Insha aapny gaoon mein


Bethein gay sukh ki chaon mein….

Nara Village beauty


نہ وہ آ سکے-----نہ ہم جا سکے

نہ وہ نبھا سکے، نہ ہم نبھا سکے


ایسے ہی گزار دی

ایسے ہی گزر گئی
اپنی بھی زندگی

ان کی بھی زندگی

وہ بھی تنہا رہے 

ہم بھی تنہا رہے

نہ وہ آ سکے-----نہ ہم جا سکے

نہ وہ نبھا سکے، نہ ہم نبھا سکے


Friday, January 11, 2019

دریائے سندھ


دریائے سندھ









دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے۔ دریائے سندھ کی شروعات تبت کی ایک جھیل مانسرور(جھیل ماناساروار)کے قریب ہوتی ہے۔ اس کے بعد دریا لدّاخ اور گلگت بلتستان سے گزرتا ہوا صوبہ خیبرپختونخوا میں داخل ہوتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں اسے اباسین بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے دریاؤں کا باپ۔ دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں دریا پہاڑوں سے میدانوں میں اتر آتا ہے اور اس کے بعد صوبہ پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہوا ٹھٹہ کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ مختلف مقامات پر اس کے مشرقی معاون دریا (دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے ستلج) اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس دریا کی لمبائی 3200 کلومیٹر ہے
دریائے سندھ کے تین میدان



دریائے سندھ کے تین میدان مشہور ہیں:
(1 ) دریائے سندھ کا بالائی میدان
(2)دریائے سندھ کا زیریں میدان
(3) دریائ سندھ کا ڈیلٹائی میدان
                     
(1) دریائے سندھ کا بالائی میدان: دریائے سندھ اٹک کے مقام پر صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے اٹک سے مٹھن کوٹ کا خطہ دریائے سندھ کا بالائی میدان کہلاتا ہے یہ میدان انتہائی زرخیز ہے۔ ہر قسم کے پھل، سبزیاں فصلیں اور جنگلات یہاں پائے جاتے ہیں۔میانوالی، بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان سے گذرتا ہوایہ دریاپنجند(مٹھن کوٹ) کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوجاتا ہے۔ دریائے سندھ کا بالائی میدان دوآبوں پر مشتمل ہے۔ دو دریاؤں کی درمیانی زمین کو دوآبہ کہتے ہیں ۔ دریائے سندھ کے بالائی میدان کے دوآبے درج زیل ہیں:
1۔باری دوآب: دریائے ستلج اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ باری دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر لاہور، قصور، ساہیوال اور ملتان میں واقع ہے۔ نہری نظام اور ٹیوب ویلوں کی وجہ سے یہاں فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔
2۔رچنا دوآب: دریائے چناب اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ رچنا دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم، سورج مکھی، تمباکو کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔
3۔ چج دوآب: دریائے چناب اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہ چج دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر جھنگ، گجرات اور سرگودھا میں واقع


 ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ مالٹے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ بین لاقوامی شہرت رکھتا ہے۔
4۔سندھ ساگر دوآب : دریائے سندھ اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہ سندھ ساگر دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر خوشاب، میانوالی بھکر اور مظفر گڑھ میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ چنے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
بار: ہر سال دریا کے پانی میں تیزی اور طغیانی آتی ہے جس کے باعث بعض مقامات بلند ہوجاتے ہیں ان مقامات کو بار کہتے ہیں یہ دریاؤں کی لائی ہوئی زرخیزمٹی سے بنے ہوتے ہیں اس لئے یہ زمینیں زرخیز ہوتی ہیں، دریائے سندھ کا بالائی میدان درج ذیل باروں پر مشتمل ہے:
1۔نیلی بار: ساہیوال اور ملتان کا علاقہ نیلی بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔نیلی، راوی اور ساہیوال نسل کی بھینسوں کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
2۔ساندل بار: سانگلہ ہل، چینیوٹ، اور شاہ کوٹ کا علاقہ ساندل بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں، سبزیاں اور پھل کاشت کئے جاتے ہیں۔
3۔کیرانہ بار: اس کے علاقوں میں ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے علاقے شامل ہیں۔یہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کی گذرگاہ پر واقع ہے
4۔ گنجی بار: دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے علاقے کو کہتے ہیں ۔ اس علاقے میں بہاولنگر اور چشتیاں آتے ہیں۔
(2)دریائےسندھ کا زیریں میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب سے گذرتا ہوا مٹھن کوٹ کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے ۔یہاں سے 



ٹھٹھہ تک دریائے سندھ کے چوڑائی بہت زیادہ اور گہرائی کم اور بہاؤ میں سستی آجاتی ہے ۔ یہ ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں داخل ہوجاتا ہے۔ سیلاب کے دنوں میں علاقہ نشینوں کو بہت پریشانی اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے لاتعداد فصلیں ،پھل داردرخت ،سبزیاں تباہ ہوجاتی ہیں اور انسان اور جانور موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ سیلاب سے بچاؤ کے لئے بہت سے مقامات پر حفاظتی بند تعمیر کئے گئے ہیں۔طغیانی کے باعث یہ دریا کئی مقامات پر اپنا راستہ بدل لیتاہے۔ آب پاشی کی ضروریات کے پیش نظر اس میدان میں بیراج تعمیر کئے گئے ہیں ،مثلاًگدو بیراج، سکھر بیراج،غلام محمد بیراج وغیرہ ۔
(3)دریائےسندھ کا ڈیلٹائی میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ سے گذرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر ڈیلٹا بناتا ہے یہاں یہ دریا مختلف شاخوں میں تقسیم ہوکر بحیرہ عرب میں ضم ہوجاتا ہے بارش کی کمی اور نہری نظام کی عدم دستیابی کے باعث یہ خطہ ویران اور بنجر ہے یہاں دلدل کے باعث کھیتی باڑی ممکن نہیں۔ خود روجھاڑیاں اور تمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا سب سے بڑا پیشہ گلہ بانی ہے۔
جھیلیں: دریائے سندھ کے زیریں میدان میں جھیلیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً منچھر جھیل، کینجھر جھیل اور کالری جھیل ۔یہ جھیلیں صحت افزا مقامات بن چکی ہیں لوگ یہاں سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں۔
آبی حیات


اندھی ڈولفن
دریائے سندھ میں اندھی ڈولفن پائی جاتی ہے۔ اس کو سو سو کہا جاتا ہے۔ اسکا ایک مقامی نام بلھن بھی ہے۔ ڈولفن کی یہ قسم دنیا بھر میں



 نایاب ہے۔ یہ قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہیں اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔ اس کی آبادی میں اضافے اور اس کی حيات

 کو پیش دشواریوں کو دور کرنے کی کئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

Sunday, January 6, 2019

Darya E Sindh(Indus River)

Indus River is the longest River Of Pakistan which is about 1976 miles (3180 km) long. Among the five major and more than 75 smaller rivers in Pakistan, the Indus river is the not only the longest but the largest river as well.





According to the average annual flow The Indus River stands at the twenty first number in the list of largest rivers in the world. The annual flow of Indus river is almost 50 cubic miles (207 cubic meter).


Indus River originates in the Tibetan plateau which is an autonomous region. Starting from the Lake Mansarovar, this river enters Ladakh region of Jammu and Kashmir which is an occupied territory by India. Darya-e-Sind enters Pakistan at Gilgit-Baltistan and then it travel throughout the country, at the end, the Indus River falls in the Arabian Sea near the famous port of Karachi.



Following are the tributaries of the Indus River. Nagar River, Astor River, Balram River, Dras River, Gar River, Ghizar River, Gilgit River, Gumal River, Kabul River, Kurram River, Panjnad River, Shigar River, Shyok River, Sohan River, Tanubal River, Zanskar River. Apart from these sixteen smaller rivers Chenab is also the tributary of this mighty river. Other three major rivers of Pakistan, fall in Chenab which ultimately meets The Indus at Punjnad.



The Indus is the most important supplier of water resources to the Punjab and Sindh plains – it forms the backbone of agriculture and food production in Pakistan. The river is especially critical since rainfall is meagre in the lower Indus valley. Irrigation canals were first built by the people of the Indus Valley Civilisation, and later by the engineers of the Kushan Empire and the Mughal Empire.



Nara Menda Shahr 
MD

Microsoft Azure Outage Wipes Out Teams, 365, and Outlook – Caused by Network Issues

  Microsoft experienced outages yesterday across its online services including Teams, M365, and Outlook, according to   Bloomberg News .  Th...