Weather
Wednesday, September 23, 2020
Tuesday, December 3, 2019
Friday, October 25, 2019
Saturday, July 20, 2019
Village Nara beautiful Place....In Jand Attock
Yahan ujlay ujlay roop Boht
Us pair ky nechy kya rukna
Jahaan saya kam ho dhoop Boht
Chall Insha aapny gaoon mein…
Bethein gay sukh ki chhaon mein
keyon teri aankh sawalii hai?
Yahan her ek Bat niralii hai
Es dais Baseraa mat krna….
Yahaan muflis hona gali hai
Chall Insha aapny gaoon mein
Bethein gay sukh ki chaon mein
Jahan sachy rishtaay yaroon ky
Jahan wadey pkay piyaroon ky
jahan ghongat zewar naroon ky
jahan jharne komal sur wale
jahan saz bajen bin taron k
Chall Insha aapny gaoon mein
Bethein gay sukh ki chaon mein….
Per asli kam Behroop Boht
Jahaan saya kam ho dhoop Boht
Chall Insha aapny gaoon mein…
Bethein gay sukh ki chhaon mein
keyon teri aankh sawalii hai?
Yahan her ek Bat niralii hai
Es dais Baseraa mat krna….
Yahaan muflis hona gali hai
Chall Insha aapny gaoon mein
Bethein gay sukh ki chaon mein
Jahan sachy rishtaay yaroon ky
Jahan wadey pkay piyaroon ky
jahan ghongat zewar naroon ky
jahan jharne komal sur wale
jahan saz bajen bin taron k
Chall Insha aapny gaoon mein
Bethein gay sukh ki chaon mein….
Nara Village beauty
نہ وہ آ سکے-----نہ ہم جا سکے
نہ وہ نبھا سکے، نہ ہم نبھا سکے
ایسے ہی گزار دی
ایسے ہی گزر گئی
اپنی بھی زندگی
ان کی بھی زندگی
وہ بھی تنہا رہے
ہم بھی تنہا رہے
نہ وہ آ سکے-----نہ ہم جا سکے
نہ وہ نبھا سکے، نہ ہم نبھا سکے
Friday, January 11, 2019
دریائے سندھ
دریائے سندھ
دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے۔ دریائے سندھ کی شروعات تبت کی ایک جھیل مانسرور(جھیل ماناساروار)کے قریب ہوتی ہے۔ اس کے بعد دریا لدّاخ اور گلگت بلتستان سے گزرتا ہوا صوبہ خیبرپختونخوا میں داخل ہوتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا میں اسے اباسین بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہے دریاؤں کا باپ۔ دریائے سندھ کو شیر دریا بھی کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخواہ میں دریا پہاڑوں سے میدانوں میں اتر آتا ہے اور اس کے بعد صوبہ پنجاب اور سندھ سے گزرتا ہوا ٹھٹہ کے قریب بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ مختلف مقامات پر اس کے مشرقی معاون دریا (دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے ستلج) اس میں شامل ہوتے رہتے ہیں اس دریا کی لمبائی 3200 کلومیٹر ہے
دریائے سندھ کے تین میدان
دریائے سندھ کے تین میدان مشہور ہیں:
(1 ) دریائے سندھ کا بالائی میدان
(2)دریائے سندھ کا زیریں میدان
(3) دریائ سندھ کا ڈیلٹائی میدان
(1 ) دریائے سندھ کا بالائی میدان
(2)دریائے سندھ کا زیریں میدان
(3) دریائ سندھ کا ڈیلٹائی میدان
(1) دریائے سندھ کا بالائی میدان: دریائے سندھ اٹک کے مقام پر صوبہ پنجاب میں داخل ہوتا ہے اٹک سے مٹھن کوٹ کا خطہ دریائے سندھ کا بالائی میدان کہلاتا ہے یہ میدان انتہائی زرخیز ہے۔ ہر قسم کے پھل، سبزیاں فصلیں اور جنگلات یہاں پائے جاتے ہیں۔میانوالی، بھکر، ڈیرہ اسماعیل خان سے گذرتا ہوایہ دریاپنجند(مٹھن کوٹ) کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوجاتا ہے۔ دریائے سندھ کا بالائی میدان دوآبوں پر مشتمل ہے۔ دو دریاؤں کی درمیانی زمین کو دوآبہ کہتے ہیں ۔ دریائے سندھ کے بالائی میدان کے دوآبے درج زیل ہیں:
1۔باری دوآب: دریائے ستلج اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ باری دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر لاہور، قصور، ساہیوال اور ملتان میں واقع ہے۔ نہری نظام اور ٹیوب ویلوں کی وجہ سے یہاں فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔
2۔رچنا دوآب: دریائے چناب اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ رچنا دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ گوجرانوالہ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم، سورج مکھی، تمباکو کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔
3۔ چج دوآب: دریائے چناب اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہ چج دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر جھنگ، گجرات اور سرگودھا میں واقع
ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ مالٹے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ بین لاقوامی شہرت رکھتا ہے۔
4۔سندھ ساگر دوآب : دریائے سندھ اور دریائےجہلم کا درمیانی علاقہ سندھ ساگر دوآب کہلاتا ہے۔ یہ پنجاب کے شہر خوشاب، میانوالی بھکر اور مظفر گڑھ میں واقع ہے۔ یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ چنے کی پیداوار کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
بار: ہر سال دریا کے پانی میں تیزی اور طغیانی آتی ہے جس کے باعث بعض مقامات بلند ہوجاتے ہیں ان مقامات کو بار کہتے ہیں یہ دریاؤں کی لائی ہوئی زرخیزمٹی سے بنے ہوتے ہیں اس لئے یہ زمینیں زرخیز ہوتی ہیں، دریائے سندھ کا بالائی میدان درج ذیل باروں پر مشتمل ہے:
1۔نیلی بار: ساہیوال اور ملتان کا علاقہ نیلی بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔نیلی، راوی اور ساہیوال نسل کی بھینسوں کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
2۔ساندل بار: سانگلہ ہل، چینیوٹ، اور شاہ کوٹ کا علاقہ ساندل بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں، سبزیاں اور پھل کاشت کئے جاتے ہیں۔
3۔کیرانہ بار: اس کے علاقوں میں ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے علاقے شامل ہیں۔یہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کی گذرگاہ پر واقع ہے
4۔ گنجی بار: دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے علاقے کو کہتے ہیں ۔ اس علاقے میں بہاولنگر اور چشتیاں آتے ہیں۔
1۔نیلی بار: ساہیوال اور ملتان کا علاقہ نیلی بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔نیلی، راوی اور ساہیوال نسل کی بھینسوں کے لئے یہ علاقہ ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
2۔ساندل بار: سانگلہ ہل، چینیوٹ، اور شاہ کوٹ کا علاقہ ساندل بار کہلاتا ہے ، یہاں چاول، گنا، کپاس گندم کی فصلیں، سبزیاں اور پھل کاشت کئے جاتے ہیں۔
3۔کیرانہ بار: اس کے علاقوں میں ضلع سرگودھا اور ضلع جھنگ کے علاقے شامل ہیں۔یہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کی گذرگاہ پر واقع ہے
4۔ گنجی بار: دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے علاقے کو کہتے ہیں ۔ اس علاقے میں بہاولنگر اور چشتیاں آتے ہیں۔
(2)دریائےسندھ کا زیریں میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب سے گذرتا ہوا مٹھن کوٹ کے مقام پر صوبہ سندھ میں داخل ہوتا ہے ۔یہاں سے
ٹھٹھہ تک دریائے سندھ کے چوڑائی بہت زیادہ اور گہرائی کم اور بہاؤ میں سستی آجاتی ہے ۔ یہ ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں داخل ہوجاتا ہے۔ سیلاب کے دنوں میں علاقہ نشینوں کو بہت پریشانی اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتاہے لاتعداد فصلیں ،پھل داردرخت ،سبزیاں تباہ ہوجاتی ہیں اور انسان اور جانور موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ سیلاب سے بچاؤ کے لئے بہت سے مقامات پر حفاظتی بند تعمیر کئے گئے ہیں۔طغیانی کے باعث یہ دریا کئی مقامات پر اپنا راستہ بدل لیتاہے۔ آب پاشی کی ضروریات کے پیش نظر اس میدان میں بیراج تعمیر کئے گئے ہیں ،مثلاًگدو بیراج، سکھر بیراج،غلام محمد بیراج وغیرہ ۔
(3)دریائےسندھ کا ڈیلٹائی میدان: دریائے سندھ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ سے گذرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر ڈیلٹا بناتا ہے یہاں یہ دریا مختلف شاخوں میں تقسیم ہوکر بحیرہ عرب میں ضم ہوجاتا ہے بارش کی کمی اور نہری نظام کی عدم دستیابی کے باعث یہ خطہ ویران اور بنجر ہے یہاں دلدل کے باعث کھیتی باڑی ممکن نہیں۔ خود روجھاڑیاں اور تمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں یہاں کے لوگوں کا سب سے بڑا پیشہ گلہ بانی ہے۔
جھیلیں: دریائے سندھ کے زیریں میدان میں جھیلیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً منچھر جھیل، کینجھر جھیل اور کالری جھیل ۔یہ جھیلیں صحت افزا مقامات بن چکی ہیں لوگ یہاں سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں۔
جھیلیں: دریائے سندھ کے زیریں میدان میں جھیلیں بھی پائی جاتی ہیں مثلاً منچھر جھیل، کینجھر جھیل اور کالری جھیل ۔یہ جھیلیں صحت افزا مقامات بن چکی ہیں لوگ یہاں سیر وتفریح کے لئے آتے ہیں۔
آبی حیات
اندھی ڈولفن
دریائے سندھ میں اندھی ڈولفن پائی جاتی ہے۔ اس کو سو سو کہا جاتا ہے۔ اسکا ایک مقامی نام بلھن بھی ہے۔ ڈولفن کی یہ قسم دنیا بھر میں
نایاب ہے۔ یہ قدرتی طور پر اندھی ہوتی ہیں اور پانی میں آواز کے سہارے راستہ تلاش کرتی ہے۔ اس کی آبادی میں اضافے اور اس کی حيات
کو پیش دشواریوں کو دور کرنے کی کئی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
Subscribe to:
Comments (Atom)
Microsoft Azure Outage Wipes Out Teams, 365, and Outlook – Caused by Network Issues
Microsoft experienced outages yesterday across its online services including Teams, M365, and Outlook, according to Bloomberg News . Th...
-
Indus River is the longest River Of Pakistan which is about 1976 miles (3180 km) long. Among the five major and more than 75 smaller rivers ...
-
Microsoft experienced outages yesterday across its online services including Teams, M365, and Outlook, according to Bloomberg News . Th...




















